بنگلورو۔21؍نومبر(ایس او نیوز) بلگاوی کے سورنا سودھا میں ریاستی لیجسلیچر کا اجلاس حسب توقع ہنگاموں کے ساتھ شروع ہوگیا۔ آج ریاستی اسمبلی کے اجلاس کی شروعات میں ہی اپوزیشن پارٹیوں نے گنے کے کاشتکاروں کو سورنا ودھان سودھا کے باہر گرفتار کئے جانے کا معاملہ اٹھاکر کارروائی میں رکاوٹ ڈال دی۔ گنے کے کاشتکاروں نے ان کے بقایا جات کی ادائیگی کا مطالبہ کرتے ہوئے سورنا سودھا کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور یہاں گھسنے کی کوشش کی، جس کے نتیجہ میں پولیس نے احتجاجی کسانوں کو گرفتار کرلیا۔ بی جے پی اور جنتادل (ایس) اراکین نے کسانوں کی گرفتاری کے اقدام کی سخت مذمت کرتے ہوئے ایوان میں ہنگامہ کھڑا کردیا اور کارروائی روک دی۔ اپوزیشن لیڈر جگدیش شٹر نے اجلاس شروع ہوتے ہی کسانوں کی گرفتاری کا معاملہ اٹھایا اور کہاکہ احتجاجی کسانوں کو راتوں رات گرفتار کیاگیا ہے، آج صبح بھی کچھ کسان حراست میں لئے گئے ہیں۔ ریاستی حکومت کا یہ موقف کسان دشمن ہے۔فوری طور پر انہوں نے تمام کسانوں کی رہائی کا پرزور مطالبہ کیا۔شٹر نے کہاکہ ریاست کے مختلف اضلاع سے کسان بلگاوی آنے کیلئے نکلے تھے، منڈیا ، میسور اور دیگر اضلاع میں بھی کسانوں کو روک کر گرفتار کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ احتجاج کیلئے میدان میں آنے والے کسان غنڈے نہیں بلکہ حکومت کی ناانصافی کا شکار افراد ہیں۔ ان کو گرفتار کرنا زیادتی ہے۔ جگدیش شٹر کے ان الزامات کو دہراتے ہوئے جنتادل (ایس) کے نائب لیڈر وائی ایس وی دتہ نے بھی کسانوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ اس مرحلے میں اسپیکر کے بی کولیواڈ نے ایوان کی کارروائیوں کی شروعات تعزیت کے ساتھ کرنی چاہی تو شٹر نے اسپیکر سے کہاکہ تعزیت کا مرحلہ بعد میں بھی چل سکتا ہے، پہلے کسانوں کی گرفتاری کے مسئلے کو سلجھایا جائے۔ اس مرحلے میں ایوان میں خوب شورو غل مچ گیا۔ وزیراعلیٰ سدرامیا کی طرف سے اس مسئلے پر مداخلت کے باوجود اپوزیشن پارٹیوں کا دھرنا ختم نہیں کیاگیا۔ وزیراعلیٰ سدرامیا نے کہا کہ آج صبح ہی تمام اضلاع کے پولیس سپرنٹنڈنٹوں کو ہدایت دی جاچکی ہے کہ تمام گرفتار شدہ کسانوں کو رہا کردیا جائے۔ غیر ضروری طور پر بی جے پی اور جے ڈی ایس شہرت کی خاطر یہ معاملہ اچھالنا چاہتی ہیں۔ سدرامیا نے کہاکہ حکومت کسانوں کے مفادات کی حفاظت کی پابند ہے، انہیں اپنے مطالبات منوانے کیلئے دھرنا دینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ سورنا ودھان سودھا کے اطراف امتناعی احکامات نافذ ہیں، اسی لئے احتیاطی طور ان کسانوں کو روکا گیا ہے انہیں گرفتار نہیں کیاگیااور نہ ہی حکومت کا ارادہ ان لوگوں کو جیل بھیجنے کا ہے۔ وزیراعلیٰ سدرامیا کی اس یقین دہانی اور ایوان کی کارروائی چلنے کا موقع فراہم کرنے کی اپیل کے بعد بی جے پی اور جے ڈی ایس اراکین نے اپنا دھرنا ختم کیا اور اس کے بعد کارروائی آگے بڑھی۔